موٹاپے کے علاج میں اہم پیش رفت، برطانیہ نے وزن کم کرنے والی پہلی گولی منظور کرلی
موٹاپے اور اضافی وزن سے پریشان افراد کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، برطانیہ نے وزن کم کرنے اور وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی پہلی جی ایل پی-1 گولی کی منظوری دے دی ہے۔
برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کے مطابق سیمیگلوٹائڈ (ویگووی) کی گولی کو 11 جون 2026 کو وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسے کم کیلوریز والی غذا اور جسمانی سرگرمی میں اضافے کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ دوا ایسے بالغ افراد کے لیے تجویز کی جاسکتی ہے جن کا بی ایم آئی 30 یا اس سے زیادہ ہو۔ اسی طرح 27 سے 30 کے درمیان بی ایم آئی رکھنے والے افراد بھی اس دوا کے اہل ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں وزن سے متعلق کم از کم ایک طبی مسئلہ موجود ہو۔
ماہرین کے مطابق سیمیگلوٹائڈ جسم میں پیدا ہونے والے قدرتی جی ایل پی-1 ہارمون کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ دماغ کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتی ہے جو بھوک اور خوراک کی طلب کو کنٹرول کرتے ہیں، جس کے باعث انسان کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہ سکتا ہے اور کھانے کی خواہش میں کمی آسکتی ہے۔
اس دوا کی خاص بات یہ ہے کہ اسے انجیکشن کے بجائے روزانہ ایک گولی کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔ علاج کم مقدار سے شروع کیا جائے گا اور مریض کی صورتحال کے مطابق خوراک بتدریج بڑھائی جائے گی۔
حکام کے مطابق دوا کی ابتدائی خوراک 1.5 ملی گرام روزانہ ہوگی، جسے مختلف مراحل میں بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 25 ملی گرام روزانہ تک کیا جاسکتا ہے۔ خوراک میں اضافہ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔
دوا کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، اسہال، قبض اور قے سمیت معدے اور آنتوں سے متعلق مختلف علامات شامل ہوسکتی ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی ادویات کا استعمال طبی نگرانی میں ہونا چاہیے۔
برطانیہ میں منظوری ملنے کے باوجود یہ دوا فی الحال قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے ذریعے دستیاب نہیں ہوگی۔ این ایچ ایس میں اس کی فراہمی کا فیصلہ مزید جائزے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (نائس) کی سفارشات کے بعد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اورفورگلیپرون (فونڈایو) ایک الگ جی ایل پی-1 دوا ہے۔ اسے امریکا میں وزن کم کرنے کے لیے منظوری دی جاچکی ہے، تاہم اسے برطانیہ میں حالیہ منظور ہونے والی سیمیگلوٹائڈ گولی کے ساتھ یکساں سمجھنا درست نہیں ہوگا۔







