ورزش یا غذا نہیں، یہ عادت بڑھا سکتی ہے عمر
طویل اور صحت مند زندگی کے لیے ورزش اور متوازن غذا کو اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنسی تحقیقات کے مطابق مثبت سوچ اور رجائیت پسندی بھی صحت اور لمبی عمر میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی کے بارے میں پرامید رویہ رکھنے والے افراد میں بہتر جسمانی و ذہنی صحت برقرار رکھنے اور 85 سال یا اس سے زیادہ عمر تک پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوسکتے ہیں۔
ایک طویل مدتی تحقیق میں راہباؤں کی جوانی میں لکھی گئی تحریروں کا کئی دہائیوں بعد جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق زیادہ مثبت خیالات رکھنے والی راہبائیں کم پرامید خواتین کے مقابلے میں اوسطاً 10 سال زیادہ زندہ رہیں۔
ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ پرامید افراد کے 85 سال یا اس سے زیادہ عمر تک پہنچنے کے امکانات تقریباً 15 فیصد زیادہ ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مثبت سوچ انسان کو ذہنی دباؤ اور مشکل حالات سے بہتر انداز میں نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔ خوشی، زندگی میں مقصد کا احساس اور مضبوط سماجی تعلقات بھی صحت مند زندگی کے لیے اہم ہیں۔
تحقیقات کے مطابق خاندان اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے والے افراد بعد کی زندگی میں زیادہ صحت مند رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مثبت سوچ لمبی عمر کی ضمانت نہیں، تاہم صحت مند طرز زندگی، جسمانی سرگرمی، بہتر سماجی تعلقات اور پرامید رویہ مجموعی صحت اور بہتر زندگی کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔







