:تازہ ترین خبریں

پاکستان میں تیل کی درآمد کے لیے نئے پالیسی فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ

پاکستان نے بین الاقوامی تیل سپلائرز کو سہولت فراہم کرنے اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے درآمدی نظام میں نئے پالیسی فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نئے نظام کے تحت عالمی سطح پر تیل فراہم کرنے والی کمپنیاں پٹرولیم مصنوعات پاکستان لا کر انہیں کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج میں محفوظ کرسکیں گی۔ غیر ملکی سپلائرز کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ اپنی مصنوعات مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کو فروخت کریں یا ضرورت کے مطابق دوبارہ برآمد کرسکیں۔

نئے پالیسی فریم ورک کا مقصد غیر ملکی سپلائرز کو پاکستانی مارکیٹ کی جانب راغب کرنا اور ملک کے توانائی کے سکیورٹی بفر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سے متعلق درآمدی پالیسی 2026 کے تحت بین الاقوامی سپلائرز کے لیے نئے قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ ان رہنما اصولوں کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ رکھ سکیں گی، جبکہ متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز فوری طور پر عائد نہیں ہوں گے۔

نئے نظام کے تحت سپلائرز کو یہ لچک بھی دی جائے گی کہ وہ اپنے ذخیرہ شدہ اسٹاک کو پاکستانی مارکیٹ میں فراہم کریں یا اسے دوبارہ برآمد کر دیں۔ اس اقدام سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے متبادل ذرائع بڑھنے اور توانائی کے شعبے میں رسد کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی توقع ہے