کراچی: تاجر میر علی رضا کے قتل کیس میں مقتول کے والد میر حسین نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ان کا باقاعدہ بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا، جبکہ پولیس اہلِ خانہ سے ایک مؤقف اور میڈیا کے سامنے دوسرا مؤقف اختیار کر رہی ہے۔
سٹی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر حسین نے کہا کہ وہ صرف میڈیا رپورٹس کے ذریعے اندازہ لگا رہے ہیں کہ کیس کی تفتیش کس سمت جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کبھی مالی معاملات کو موضوع بنایا جاتا ہے اور کبھی کوئی اور پہلو سامنے لایا جاتا ہے، جبکہ اصل معاملہ قتل کی تحقیقات کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے پر قرض تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قتل کے اصل حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے۔ “ہم انصاف چاہتے ہیں، لیکن تحقیقات کا رخ کسی اور جانب موڑا جا رہا ہے،” انہوں نے کہا۔
میر حسین نے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کی عدم موجودگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح کیا جائے کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے قبر کشائی کے فیصلے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ خانہ پہلے ہی شدید صدمے سے گزر رہے ہیں، مگر انصاف کے لیے اس عمل کو برداشت کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس یہ بھی تحقیق کرے کہ مقتول کی شناخت مٹانے کی کوشش کیوں کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اب تک اہلِ خانہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور ان سے نجی ملاقاتوں میں کچھ اور جبکہ عوامی سطح پر مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔
میر حسین کے مطابق میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد ہی انہیں پولیس کی رپورٹ فراہم کی گئی، جبکہ ان کا مطالبہ ہے کہ کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے تاجر میر علی رضا کی قبر کشائی سے متعلق اہلِ خانہ کی درخواست منظور کر لی ہے، جس کے بعد کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔







